جرمنی میں قومی چھٹیوں کا مقصد یہاں منائے جانے والے خاص تہواروں کی پہچان ہے۔ یہاں بہت ساری قومی اور عوامی چھٹیوں کا تعلق مسیحی تہواروں اور انکی بنیاد سے منسلک ہے مثلاً: ایسٹر کا دن، یسوع مسیح کے زندہ آسمان پر اٹھائے جانے کا دن، اور عید پینتیکوست کا دن۔ ہم نے ان چھٹیوں کی مذید تفصیلات کو اپنی ویب سائٹ کے دوسرے حصوں میں بیان کیا ہے جوکے آپ پڑھ سکتے ہیں۔ جرمنی میں دیگر چھٹیاں جیسے کہ „پہلی مئ کا دن“ اور „جرمن ہم آہنگی کا دن“ قومی چھٹیوں اور سیاسی اور معاشرتی اہمیت کی حیثیت رکھتی ہیں۔

تقریباً ساری دوکانیں بند ہوتی ہیں اور بہت سے لوگوں کو اپنے کاموں اور نوکریوں سے فرصت ہوتی ہے۔ ایسی چھٹیوں کی وجہ سے، لوگ ہمیشہ اپنے آرام کے دن کو مسیحیت میں شامل ساتویں دن آرام کے عقیدے کے مطابق سمجھ سکتے ہیں جسکا تعلق جرمنی اور یورپ کی مذہبی روایات کے ساتھ گہرے طور پر منسلک ہے۔

جرمن یکجہتی کا دن

Foto: Berliner Senat, Fotograf unbekannt

دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ میں نئے سیاسی مسائل کی شروعات ہونے لگیں، مشرقی یورپ کے کمونیست ممالک کے درمیان نام نہاد „سرد جنگ“ کے آغاز کے ساتھ، سوویت یونین کا غلبہ، اور سارے مخربی یورپ کے ممالک امریکہ کے زیر انتظام چلنے لگے۔ ان مسائل کی بدولت، 1949 میں مشرقی جمہوریہ جرمنی (East Germany) اور مخربی وفاقی جمہوریہ جرمنی (West Germany) دنیا کے نقشے پر نمودار ہوئے۔ برلن جوکے پرانا دارلخلافہ تھا اسے بھی دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔
جمہوری طور پر حکمران مغربی وفاقی جرمنی میں تیزی سے بڑھتی ہوئی خوشحالی اور اس طرف موجود زیادہ سیاسی آزادی نے بہت سے مشرقی جرمنی میں رہنے والے باشندوں کو اپنی جانب فرار ہونے پر زور دیا. نتیجے کے طور پر، مشرقی جرمنی نے جرمنی اور برلن کو تقسیم کرنے کے لئے جان لیوا تاروں کی باڑ اور کنکریٹ پر مشتمل ایک دیوار بنادی اور درمیان میں ایک موت کی پٹی تعمیر کردی. اس رویہ نے آنے والے جمہوریہ جرمنی کو ممکن سابت کردی.

کئی سالوں تک یہ علیحدگی ایک مستقل ڈویژن کی طرح دیکھائی دیا. مشرقی جرمنی میں کمیونسٹ نظریات نے پہلے سے موجود جگہ کا دعوی کر لیا جو مذہب کے قبضے میں تھی۔ بنیادی طور پر وہ مسیحی لوگ تھے جن پر بہت زور ڈالا گیا بجائے اس بات کے، کہ سارے جرمنی کی ثقافتی روایات مسیحیت میں مضبوطی سے وابستہ تھیں. حتیٰ کہ، مشرقی جرمنی میں مسیحی لوگوں پر ریاست کا بہت دباؤ تھا وہ پھر بھی اپنے ایمان پر قائم رہے۔ اسی وجہ سے جہاں کہیں بھی گرجا گھر تھے وہاں مزاحمت بہت تیزی سے پھیلتی گئی۔ لائپزش شہر کے سینٹ نکولس گرجا گھر اور شہر کے دیگر علاقوں میں پڑھی جانے والی امن کی دعائیں مزاحمت کو کچلنے کا بنیادی حصہ بنیں اور ان دعاؤں کی رہنمائی کے ساتھ، نتیجتاً 1989 میں مشرقی اور مغربی جرمنی کے درمیان دیوار گر گئی.

شرقی جرمنی کے سیاستدان، مسٹر ہورس سنڈرمان کا یہ کہنا تھا کہ، „ہم ہر ایک چیز کے لیے تیار تھے سوائے دعاؤں اور موم بتیوں کے“. برلن دیوار کے گرنے کے بعد، لوگ اس بات کے لیے احتجاج کرنے لگے کہ دونوں مشرقی اور مخربی جرمنی کو اکھٹا ہونا چاہیے اور یہ نظارہ 3 اکتوبر 1990 کو پس منظر پر آیا۔ اب ہر سال لوگ اس جرمن یکجہتی کے روز اس صانع کو یاد کرتے ہیں اور گرجا گھروں میں شکر گزاری کی عبادات کا انتظام کیا جاتا ہے۔

١پہلی مئ کا دن

Foto: Mummelgrummel, CC BY-SA 3.0

دنیا کے بہت سے ممالک میں، ١ مئ کو مزدوری کے روز کی مانند منایا جاتا ہے۔ اس کی تاریخی ابتدا 1886 میں امریکہ میں پیش آنے والی مزدوروں کی اس ہڑتال سے وابستہ ہے جب وہ اپنے نکمے اور غیر منصفانہ کام کرنے والے حالات کے بارے آوازیں اٹھا رہے تھے۔ انہیں تھوڑے پیسوں کے لئے 12 گھنٹے کی شفٹ کا کام کرنا پڑتا تھا جسکو موجودہ حکومت سرکاری طور پر 8 گھنٹے کے کام کہ طور پر تسلیم کرتی تھی. یہ عام ہڑتال کئی دنوں تک جاری رہی اور اس کے ساتھ تشدد کےکئ فسادات بھی ہوئے. اور ایک بم دھماکہ کی وجہ سے کئی مزدوروں اور پولیس اہلکاروں نے اپنی جان کھو دی.
کے بعد سے اس واقع کو یورپ میں بھی یاد رکھا گیا۔، بہت سے بڑے شہروں میں ہتھیاروں اور مظاہرین کے ساتھ کارکنوں نے کام کاج کے حالات کو بہترین بنانے کے لیے حکومتوں اور مالکوں کی بدترین کوششوں کے خلاف بہت سی لڑایاں لڑیں – اس دوران جرمنی میں ایک طاقتور محنت کش تحریک نے جنم لیا، جسنے تجارتی یونینوں کی حمایت کے ساتھ ١ مئی کو استحصال اور ظلم کے خلاف مظاہرین کا مظاہرہ کیا. اسی وجہ سے 20 ویں صدی کے آغاز سے، مئی کو ایک سرکاری عوامی چھٹی قرار دے دیا گیا جس روز کام کاج کرنے والوں کو اپنے کاموں سے فرصت ہوتی ہے۔

ج کل، لوگوں کو ١ مئی کے انتہا پسند مظاہروں میں شامل ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ، زیادہ تر لوگوں کے کام کرنے والے اور کاروباری حالات ڈرامائی طور پر بہتر ہوگئے ہیں. بلکہ اب یہ عوامی چھٹی خاندان کے ساتھ ایک تفریحی دن گزارنے کا موقع بن چکی ہے.

جرمنی کے دیہی علاقوں میں اب بھی ١ مئ کو رنگدار مضبوط ٹہنیوں سے جو کہ پائن کے درختوں سے کاٹی جاتی اور روایتی طور پر تیار کی جاتی ہیں ، مئ کا ایک ٹاور جسکو (maypole) کہتے ہیں، بنایا جاتا ہے۔ اس پول کو عام طور، پر رنگا رنگ ربنز کے ساتھ سجایا ہے۔ اور „مئی کے مختلف رقصوں“ کے ساتھ اس تہوار کو گاؤں کی روایات کے ساتھ منایا جاتا ہے۔

نئے سال کی شام اور دن

اگرچہ نئے سال کی شام اور نئے سال کا دن کرسمس کے دن کے چند دنوں کے بعد ہی آتا ہے، مگر ان کا تعلق مسیحی چھٹیوں سے نہیں ہے. پہلے وقتوں میں، لوگ یہ سوچا کرتے تھے کہ انہیں نئے سال کی ابتدا میں بدروحوں کو دور کرنا ہے. یہ صرف ایک جرمن روایت ہے جس کا مسیحی عقائد کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے. مگر آج بھی روایتی طور پر، آتش بازی اور شور شرابے کے ساتھ ان بدروحوں کو دور کرنے کے لئے جشن منائے جاتے ہیں۔

آج کل، نیا سال کی شام کو عام طور پر خاندان یا دوستوں کے ساتھ منایا جاتا ہے. لوگ کھانے کھاتے، مختلف قسم کے کھیل کھیلتے اور صرف آرام کے ساتھ نئے سال کی آمد سے لطف اٹھاتے ہیں۔ بعض لوگوں کو جنگلی جماعتوں کو ترجیح دیتے ہیں، اکثر لوگ بہت زیادہ شراب کے ساتھ اس کا آغاز کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ نئے سال کی قراردادیں تیار کرتے اور اپنے مقاصد کے بارے لکھتے، اور آدھی رات کو شیشے کے چمکدار گلاسوں میں وائن (champagne) ڈال کر آنے والے سال کے لئے ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کرتے ہیں. مسیحی لوگ اکثر ایک دوسرے کو خدا کی برکتوں کے اظہار کے ساتھ مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

آتش بازی کی اجازت، صرف نجی سطح پر خاندانوں یا دوستوں کے درمیان تقریبات کے منانے کے لیے، دی جاتی ہے. نئے سال کی شام کے دوپہر سے لےکر نئے سال کے سارے دن عوامی تعطیلات ہوتی ہیں جب لوگوں کو کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور دکانیں بند رہتی ہیں.

ڈان لوڈ کریں

آپ اس مضمون کو اپنی زبان میں پی ڈی ایف فائل میں ڈان لوڈ کر سکتے ہیں:

اس صفحہ کا آگے تبادلہ کریں

فیس بک پر تبادلہ کریںٹوٹر پر تبادلہ کریںPer Whatsapp teilen

Ihr Browser ist stark veraltet

Bitte aktualisieren Sie Ihren Browser!