Foto: Paul-Georg Meister, pixelio.de

آپ نے جرمنی میں مختلف رنگوں کے کوڑے کرکٹ کے ڈبوں کو ریلوے سٹیشن پر، گھروں کے سامنے، اور حتی کہ جنگلی راستوں میں بھی پڑے دیکھا ہوگا۔ جرمنی کے لوگ اس بات کو غلط سمجھتے ہیں کہ کوڑے کرکٹ کو عوامی جگہوں پر، گلیوں میں، گاؤں کے مختلف حصوں میں، یا پھر گھروں کے صحنوں کے سامنے پھینکا جائے۔

اس وجہ سے لوگوں کو مختلف قسم کے کوڑے کرکٹ کو اس کے معتلقہ ڈبوں میں ڈالنے اور مناسب طور پر ریسایکل کرنے کے لیے بہت کام کرنا پڑتا ہے۔ ریسائیکل شدہ کوڑا کرکٹ – مثلاً کاغذات، پلاسٹک، قلاس، وغیرہ وغیرہ۔ – کو نئی اشیاء جیسے کہ اخبارات اور رسائل، گلدستے اور بوتلیں بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ری سائیکلنگ کرنے سے گندگی کے ڈھیروں میں کمی، اور خام مال کی حفاظت کی جاتی ہے۔ اور ری سائیکلنگ گندگی کو جلا نے سے بھی بچاتی ہے۔ لحاظہ کوڑے کرکٹ کو علیحدہ کرنا ہمارے ماحول کے لیے بہت اچھا ہے۔

مختلف قسم کے ڈسٹ بن

Foto: Gabi Schoenemann, pixelio.de

جرمنی میں کوڑا کرکٹ مختلف قسم کے ڈسٹ بن میں ڈالا جاتا ہے۔ ہر گھر کے اپنے ذاتی ٹریش کینز ہوتے ہیں۔ عام طور پر کاغذات کے ڈبوں کے ڈھکن نیلے رنگ کے ہوتے ہیں اور پیک کرنے والی اشیاء کو پیلے بیگز میں اور یا پھر پیلے رنگ کے بنز میں ڈالا جاتا ہے۔ بائیو ڈی گریڈایبل جیسے کہ کچن کہ ٹریش اور دیگر ہری اشیاء کو بائیو کے ڈبوں میں ڈالا جاتا ہے جو کہ عام طور پر ہرے یا براؤن ڈھکنوں سے بند کیے جاتے ہیں۔

جرمنی میں آپ کو زیادہ تر گلاس یا پلاسٹک کی بوتلوں پر اصلی قیمت کے ساتھ کچھ زیادہ رقم ادا کرنا پڑتی ہے جو کہ واپس شدہ ہوتی ہے۔ یہ طریقہ لوگوں کو بوتلیں نہ پھینکنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جرمنی میں خالی بوتلیں مارکیٹ میں لگی مشینوں میں واپس ڈالی جاتی ہیں جہاں آپکو بوتلیں خریدتے وقت زیادہ ادا کردہ رقم واپس دی جاتی ہے۔ یہاں گلاس کو گھروں میں رنگوں کے مطابق علیحدہ کرکے پھر ڈبوں میں ڈالا جاتا ہے۔ انکو پھینکے وقت کافی شور ہوتا ہے اسلئے آ پ کو یہ کام صرف دن کے درمیان کرنا پڑتا ہے۔
دوسری ساری قسم کے کوڑے کرکٹ کو جس کے لیے کوئی خاص ٹریش کین نہ ہو اس ٹریش کین میں جس کا ڈھکن کالا ہو پھینکا جاتا ہے۔

ربش کی مناسبت سے علیحدگی اور دولت کا بچاؤ

شروع میں گندگی کو مناسب طریقوں سے علیحدہ کرنے میں محنت تو کرنا پڑتی ہے لیکن ایسا کرنے سے آپ کو لوکل جرمن لوگوں کی نظر میں کافی مقبولیت حاصل ہوتی ہے۔ اس وجہ سے Deutschland-Begleiter.de آپ کو تجویز کرتی ہے کہ آپ فضلاء کو الگ کرنا سیکھیں۔ اس بارے میں آپ اپنے علاقے کی کوڑے کرکٹ کی متعلقہ تنظیم سے یا ہمسایوں سے بھی معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ اور آپ سیدھے Deutschland-Begleiter.de کے نمائندوں سے بھی پوچھ سکتے ہیں۔
گندکی کو علیحدہ کرنے سے آپ اپنے پیسوں کی بھی بچت کرسکتے ہیں۔ جرمنی کے کئ علاقوں میں کالے ڈبوں میں ڈالے جانے والے گھریلو کوڑے کا وزن کیا جاتا ہے،وزن جتنا زیادہ ہو آپ کو اتنے ہی زیادہ پیسے ادا کرنا پڑتے ہیں۔ لیکن فالتو کاغذات اور پیکجنگ پر کوئی بھی زیادہ فی نہیں ہوتی۔

ہمارے سیارے کی ذمہ داری

Foto: www.helenesouza.com, pixelio.de

ویسے، جرمنی میں کوڑے کرکٹ کو علیحدہ کرنا ملک کی مسیحی روایات سے تعلق رکھتا ہے۔ مسیحی لوگوں پر یہ مبنی ہے کہ وہ خداوند کی بنائی مخلوقات کی حفاظت کریں کیونکہ یہ خدا کی طرف سے ایک طعفہ ہے۔ خدا کےاس مقدس حکم نے یقیناً ہمارے معاشرے پر بہت اثر چھوڑ رکھا ہے۔

اگرچیکہ جرمنی میں لوگ گندگی کی حفاظت انجیل مقدس کا حوالہ دیے بغیر بھی کرتے ہیں تو پھر بھی اس کی جڑیں خدا کی طرف سے مقرر کردہ ذماداریوں پر مشتمل ہیں۔ آخر کار، جیسے کہ انجیل مقدس میں (پیدائش 2:15، زبور 115:16) لکھا ہے کہ زمین خدا کی ملکیت ہے۔ ہم انسانوں کو اس کی قدر اور حفاظت کرنی چاہیے۔ اور اپنی آنے والی نسلوں کو اچھائی کرنے کی تعلیم جوکہ ہم نے خدا سے سیکھی ہے، دینی چاہیے۔

آخر میں آپ ان نیچے بیان کردہ ویب سائٹس سے کوڑے کرکٹ کی علیحدگی کے بارےمیں، اور زیادہ معلومات حاصل کرسکتے ہیں:

www.abfallwirtschaft-heidenheim.de
www.mettmann.de

ڈان لوڈ کریں

آپ اس مضمون کو اپنی زبان میں پی ڈی ایف فائل میں ڈان لوڈ کر سکتے ہیں:

اس صفحہ کا آگے تبادلہ کریں

فیس بک پر تبادلہ کریںٹوٹر پر تبادلہ کریںPer Whatsapp teilen

Ihr Browser ist stark veraltet

Bitte aktualisieren Sie Ihren Browser!