کوئی بھی شخص جو اپنے ملک کو ڈر یا کسی قسم کے خوف کی وجہ سے چھوڑ کے بھاگتا ہے اسے بہت مشکلات اور تنگی کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔ اکثر انہوں نے بہت ہیبت ناک چیزوں کا سامنا کیا ہوتا ہے۔ بعض اوقات ان معاملات کے بارے میں بات کرنا نا ممکن ہوتا ہے۔ خاص طور پر جب آپ نے اپنے عزیز و اقارب اور دوستوں کو کھو دیا ہو اور پھر بھاگ کر غیر ممالک میں ایک نئے معاشرے اندر زندگی بسر کرنا پڑے۔ لیکن اس بات کو سمجھنا بہت ضروری ہے کہ آپ اپنے ترک وطن کے تجربہ سے تبادلہ اختیار کریں اور ان دھک بھریں داستانوں سے باہر نکل کر اپنی زندگی کو سنواریں۔

کسی قسم کا بھی صدمہ ایک بہت بڑا زخم ہوتا ہے، جیسے کہ کوئی ٹوٹی ہوئی ٹانگ یا پھر گہرا زخم۔ آپ صرف اس زخم کو اپنی آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتے چاہے یہ کسی بہت بڑے تشدد کا نتیجہ ہو۔ ہمارا جسم اسکے درد کو سمجھنے اور شفا بخشے کیلئے مختلف طریقوں سے کام کرتاہے۔ مگر نتیجتاً دکھ اور صدمہ ایسی تکلیفیں ہیں جو ہمارے جسم کے ہر حصے کو، جیسے کہ: ہمارے خیالات، ہماری سوچیں، ہماری محسوسات اور ہمارے رویوں پر گہرا اثر چھوڑتی ہیں۔

سدمات کی پہچان: کیا میں کسی صدمے کا شکار ہوں؟ اور یا میں کسی صدمے شدہ شخص کو جانتا ہوں؟

کسی حادثاتی مشکل کہ بعد انسان کا کردار اور ذہنی علامتیں ایک نیا رغ اپنا لیتی ہیں۔ کسی چیز پر دھیان کی کمی اس کی ایک علامت ہے۔ اور اس کے نتائج اس حدتک برے ہوسکتے ہیں کہ آپ اپنی روزمرہ کی زندگی کا بھی اچھے طریقے سے خیال نہیں رکھ سکتے۔ کچھ حادثاتی شکار اس حد تک اثر انداز ہو جاتے ہیں کہ وہ اکثر پریشانی اور جسمانی کمزوری مثلاً جسم کا اکثر سوجانا، کا شکار ہو جاتے ہیں۔ آپ کو اپنے اردگرد موجود اشیاء کی پہچان ختم ہونا شروع ہو جاتی ہے اور آپ کو ہر چیز پہلے سے مختلف نظر آتی ہے۔ اسکے علاوہ آپ دیگر بیماریوں یا علامتوں مثلاً، نیند میں کمی، جسمانی کمزوری، ڈراؤنے خواب، خوف کے حملے اور رویے میں اچانک تبدیلی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

صدمات اور شدید حادثات اور بھی بہت سی جسمانی بےچینیوں کا باعث بنتے ہیں جن میں: پھٹوں کی کمزوری، پھٹوں کا کھچاؤ، شدید سر درد، پیٹ میں درد، اور الٹیوں کا آنا شامل ہے۔ اکثر ان سورتوں میں ڈاکٹر حضرات بھی کسی بیماری کی تلاش نہیں کر سکتے۔ اور ہو سکتا ہے کہ آپ کے رویوں میں بھی کافی تبدیلی آ جائے۔ مثال کے طور پر، نوجوان ہیروئن، چرس یا پھر دارو کا انتہائی حد تک استعمال شروع کر دیں۔ بچے اکثر خاموشی، سنڈورم، اور یا پھر توجہ میں کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات صورت حال اس حد تک خراب ہو جاتی ہے کہ آپ خود خوشی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ان حالات میں، جرمنی میں صرف ہسپتال ہی مدد مہیا کرسکتے ہیں۔

ایسے حالات میں آپ کو اپنی ذاتی زندگی سے اس حد تک واقفیت ہو جاتی ہے کہ آپ اپنی زندگی میں کوئی خوشی نظر نہیں آتی، آپ کو خود پر اعتماد نہیں رہتا اور اکثر آپ دیوانوں جیسی حرکتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اگر حالات ایسے ہو جائیں تو آپ کو خود کو نہیں بلکہ ان سدمات کو جو آپ سے پیش آ چکے ہو الزام دینا چاہیے۔ اکثر ایسی صورت حال کے ماتحت لوگ اپنے عزیز و اقارب سے بات چیت کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

اگر آپ کو اس بات کا اندازہ لگے کہ آپ یا آپ کا کوئی دوست ان علامتوں کا شکار ہو تو آپ کو دل کھول کر کسی جاننے والے سے گفتگو کرنی چاہیے۔ بعض اوقات شدید حادثاتی سدمات کا اظہار ہفتوں یا مہینوں میں ہوتا ہے۔ اکثر جب آپ تھوڑی سکون کی حالت میں ہوتے ہیں۔ حادثاتی شکار، بعض اوقات نارمل حالات میں عجیب و غریب قسم کے رویہ کا اظہار کر دیتے ہیں۔ یہ قابو سے باہر ہوتا ہے۔ ایسے نا معلوم رویہ کے اظہار کا تعلق بعض اوقات کسی کھانے کی خوشبو، تصویروں، رنگوں اور محسوسات سے ہوتا ہے جو آپکی سوچوں کو ان صدمات سے منسلک کر دیتا ہے۔ آپ کو ایسا لگتا ہے کہ جیسے آپ دوبارا ان صدمات کا شکار ہو گئے ہوں اور پھر آپ دوبارا ڈر اور خوف کے قبضے میں آجاتے ہیں۔

کیا ایک صدمہ سہنے والا شخص شفا پا سکتا ہے؟

اگر آپکو لگے کہ آپ یا آپ کا کوئی دوست کسی صدماتی علامتوں کا شکار ہے تو آپ کو پروفیشنل مدر کی تلاش کرنی چاہیے۔ خاص کر جب ایسی علامتوں کا اظہار مسلسل ہوتا رہے۔ اسکے علاوہ، ہمارا جسم ایسی شفائی قوتوں کا حامل ہے کہ اکثر صدموں کے شکار لوگ وقت کے ساتھ ساتھ خود ہی صحت مند ہو جاتے ہیں۔ بہت سے معاملات میں دکھ درد کا ردعمل یا ان کی شدت اور مسائل خود کو پہلے چند دنوں اور ہفتوں میں ظاہر کرتی ہیں.

اگرچہ، ایسا ممکن نہ ہو اور علامتوں کے اثرات بری حد تک پھیل جائیں تو آپ کو جلدی سے ڈاکٹر کی طرف رجوع کرنی چاہیے۔ آپ کو اس بات سے کسی قسم کی شرم نہیں آنی چاہیے کہ آپ کا جسم ایسی علامتوں کا اظہار کررہا ہے۔ یہ کسی قسم کی کمزوری کا نشان نہیں ہے بلکہ آپ کو اس با رے میں ، جلد از جلد کسی سمجھدار شخص سے بات چیت کرنی چاہیے۔

چاہے صدماتی شکار لوگوں کے ساتھ کچھ بھی پیش آیا ہو، انہیں اس بات کا الزام نہیں لگانا چاہیے۔ ہوسکتاہے کہ ایسے صدمات اور ان کے ذریعے پیش آنے والے حادثات اور دھبوں کو کبھی بھلایا نہ جاسکے، لیکن آج، ان حادثات اور انکے بعد پیش آنے والی علامتوں اور پریشانیوں کو حل کیا جاسکتا ہے۔ یقیناً، آپ کو کبھی بھی اپنی امید کو کھانا نہیں چاہیے۔

مدد آپکی مدد کیسے کرتی ہے؟

جیسے کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ مدر حاصل کرنے کی طرف آپ کا پہلا قدم کسی ایک شخص پر مکمل اعتماد ہے۔ لیکن ایسے لوگ اپنی مدد آپ بھی کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگرآپ خود کو ریلیکس رکھیں اور سکون حاصل کرنے کے طریقے ڈھونڈیں۔ اگر ہوسکے تو ان سب بہلا دینے والی تصویروں، رنگوں، یا ذائقوں سے دور رہیں جن کا آپ کے سدماتی حادثات سے کسی قسم کا تعلق ہو۔

اسکے علاوہ ایسے لوگوں کو ان چیزوں سے رابطہ رکھنا چاہیے جن سے انہیں خوشی میسر ہو۔ ایسا کرنے سے آپ کی صلاحیتیں بھڑتی ہیں۔ مثلاً سکول میں یا پھر چھٹیوں کے دوران کوئی کورس کرنا۔ دیگر مددگار سرگرمیوں میں، دوستوں سے ملنا جلنا، اپنے کام کی جگہ پر اچھےتعلقات بنانا، رشتے داروں سے بات چیت کرنا، اور مثبت لوگوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنا شامل ہے۔

یہ بھی بہت اچھی جب کوئی صدموں میں دبے لوگوں کے لیے کھڑا ہوتا ہے۔ اس بات کی بہت سی گواہیاں موجود ہیں کہ آپ کا شخصی ایمان بھی آپ کی مشکلات پر قابو پا سکتا ہے۔ اگر آپ کو مزید مدد کی ضرورت ہو تو آپ اپنے علاقے میں واقع گرجا گھر یا پھر اس شخص سے رابطہ کریں جس نے آپ کو Deutschland-Begleiter.de کے بارے بتایا ہو۔

ثقافتی جھٹکا اور غیر لوگوں سے جان پہچان

یہ ضروری ہے کہ آپ صدمات کی علامتوں کو سنجیدگی سے لیں، اور مدد کی تلاش میں رہیں۔ لیکن اگرآپ یہاں بیان کی گئی ایک یا دو علامتوں کا شکار ہوں تو پھر آپ اس عنوان میں بیان کی گئی بیماریوں کا شکار نہیں ہوسکتے۔ بحض اوقات یہ صرف نئے معاشرے میں آنے کا جھٹکا ہوتا ہے جیسے کہ ایک غیر ملک میں غیر ملکی لوگوں سے جان پہچان کا پریشر۔ اکثر ایسا ثقافتی صدمہ آپ کے بیرون ملک آنے کے پہلے مہینے کے دوران ہوتا ہے۔

ڈان لوڈ کریں

آپ اس مضمون کو اپنی زبان میں پی ڈی ایف فائل میں ڈان لوڈ کر سکتے ہیں:

اس ویب سائٹ کو آ گے شیر کریں

فیس بک پر تبادلہ کریںٹوٹر پر تبادلہ کریںPer Whatsapp teilen

Ihr Browser ist stark veraltet

Bitte aktualisieren Sie Ihren Browser!