جرمنی میں انفرادیت معاشرتی گروپ کی نسبت زیادہ اہمیت رکھتی ہے، اور اس بات کو بہت سے غیر ملکی معاشروں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ذاتی آ زادی اور باہمی حقوق کو بہت اونچی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اگر چہ انجیل مقدس کے مطابق ہر ایک شخص ایک جیسا نہیں ہے، لیکن سب کی قدر، خدا کی نظر میں ایک جیسی ہے۔ نہ صرف جرمنی میں، بلکہ پورے یورپ میں سب لوگوں کو برابر کے انسانی حقوق میسر ہیں، چاہے وہ مر یا پھر عورت ہو، چاہے کسی کا رنگ کالا یا گورہ ہو، اور چاہے ان کا معاشرتی اور مذہبی رہن سہن ایک جیسا نہ ہو۔ ہمارا یہ عقیدہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم غیر ملکیوں کو بھی مکمل آ زادی مہیا کرتے ہیں – ہماری سیاسی مہمان نوازی کے سماجی روایات اس بات پر مبنی ہیں کہ خدا کی نظر میں ہر ایک غیر ملکی کی قدر ہر ایک مقامی باشندوں کے برابر ہے۔

مردوں اور عورتوں کے باہمی حقوق

Foto: stockbroker, 123rf.de

قانونی اصول کے مطابق مرد اور عورت برابر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پچاس سال پہلےاس کی صورتحال ایسی نہیں تھی۔ اور آج بھی معاشرتی سطح پر اسے پورے طور اپنایا نہیں جاتا۔
ایک عورت کے لیے شخصی آزادی کا مقصد اس کی ذاتی رائے یا خواہش کا اظہار ہے۔ اگر کچھ عورتیں ایسے کپڑے پہنے جن میں انکا جسم دوسری عورتوں کی نسبت زیادہ نظر آ ئے، اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہوتا کہ وہ آ تے جاتے مردوں کو ورخلا رہی ہیں۔ یورپ میں کسی کی طرف ٹکٹکی لگانے کو بہت غیر محزب سمجھا جاتا ھے چاہے کسی نے آ دھے کپڑے، بخیر بازوئوں کے بلاؤز اور یا پھر منی سکرٹ پہنی ہو۔

مردوں اور عورتوں کو ایک ہی انداز میں سلام کیا جاتا ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے کو گروپ میں ملتے ہیں تو عام طور پر مرد حضرات پہلے عورتوں کے اور پھر مردوں کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہیں۔ یہ عمل عورتوں کو عزت دینے کے لیے اپنایا جاتا ہے۔ اس عمل کے دوران مردوں کو سرسری طور پر عورتوں کے ساتھ آ نکھیں ملانا پڑتی ہیں لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہوتا کہ شاید پہلی بار ملنے والے حضرات کا آ پس میں کوئی جسمانی چکر ہے یا پھر وہ ایسا رشتا چاہتے ہیں۔

ڈان لوڈ کریں

آپ اس مضمون کو اپنی زبان میں پی ڈی ایف فائل میں ڈان لوڈ کر سکتے ہیں:

اس ویب سائٹ کو آ گے شیر کریں

فیس بک پر تبادلہ کریںٹوٹر پر تبادلہ کریںPer Whatsapp teilen

Ihr Browser ist stark veraltet

Bitte aktualisieren Sie Ihren Browser!