ایسی اصطلاحات اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ جب انسان خود کو خدا کے سامنے کھلے دل سے پیش کرتاہے تو وہ نہ صرف اپنے آپ میں بلکہ اپنے اردگرد کے معاشرے میں بھی خاص تبدیلی لاتا ہے۔ ان سب باتوں کے باوجود، پانچ سو سال پہلے، اکتوبر 31، سن 1517 میں ڈاکٹر مارٹن لوتھر نے جرمنی اور پورے یورپ کو انتہائی حد تک اثر انداز کیا۔

اصل میں، ڈاکٹر مارٹن لوتھر صرف اپنے گرجا گھر میں ایمان کی صحیح تابعداری اور اس کی اصلاحات کے بارے میں بات چیت کرنا چاہتا تھا لیکن اس کی گفتگو کے اثرات اس حدتک پھیل گئے کہ لوگ آج بھی مارٹن لوتھر کی „مکمل ایمان کی بحث کے ماتحت“ اپنی سوچوں اور ایمان کی صحیح پیروی کی بات کرتے ہیں – تب ایک نئے چرچ نے جنم بھی لیا۔ ان باتوں کی یادگاری میں، جرمنی میں اکتوبر 31، سن 2017 کو ایک مقامی چھٹی کے طور پر منایا گیا جو کے مارٹن لوتھر کی اصلاحات کا پانچسوواں سال تھا۔

لوتھر کے چرچ کے ساتھ مسائل

مارٹن لوتھر کے دور میں، گرچا گھر اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ انسان کے گناہوں کی معافی گرجا گھروں کو ہدیہ دینے پر حاصل کی جاسکتی ہے،اس عمل کو „غفلت“ کہا جاتا تھا۔ اس بات پر لوتھر کو ہمیشہ بہت خصہ آتا تھا کیونکہ اسکے روحانی تجربات کے مدنظر وہ خدا جیسا پاک نہیں ہوسکتا۔ باوجود اس کے کہ اسنے اپنی زندگی میں کیا کچھ کیا، یا پھر کس مجبوری کے تحت کیا، بلکہ اس کے مطابق وہ آرام سے اپنے گناہوں کی معافی کو خرید یا پھر کوئی اچھے کام کر کےاسے حاصل نہیں کر سکتاتھا۔

اس نے بائبل مقدس میں اس مسلے کہ حل کو تلاش کیا – جوکہ رومیوں کے خط کے پانچویں باب میں اسطرح بیان کیا گیا ہے „اب چونکہ ہمیں ایمان سے راست باز قرار دیا گیا ہے اِس لئے خدا کے ساتھ ہماری صلح ہے اور اس صلح کا وسیلہ ہمارا خداوند یسوع مسیح ہے“۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان صرف اس وقت نجات حاصل اور خدا کے ساتھ ابدی زندگی گزار سکتے ہیں جب وہ یسوع مسیح کو اپنی زندگی کا درمیانی اور وسیلہ سمجھتے ہیں۔ لوتھر کے لیے یہ پیغام بہت واضح ہوچکا تھا کہ خداوند یسوع ہمارے گناہوں کی قربانی دے چکے ہیں۔

اس وجہ سے ہم انسان خدا کے حضور آسکتے ہیں – لیکن صرف اسکے فضل کے وسیلہ سے۔ ہمیں صرف اس عمل کو اپنانے کی ضرورت ہے کہ ہم یسوع مسیح کو اپنی زندگی میں قبول کریں اور اس بات پر ایمان رکھیں کہ وہ ہمیں گناہوں سے نجات بخشتا ھے۔ مثلاً کہ اس پر کامل ایمان رکھیں۔ اس ایمان کی بنیاد انجیل مقدس ہے جس کے پڑھنے سے ہم اپنے نجات دہندہ مسیح کے بارے میں بہت کچھ جان سکتے ہیں۔ مسیحی لوگ اس کو „انجیل یا گاسپل“ بھی کہتے ہیں جس کا مطلب „اچھی خبر“ ہے۔ لحاظہ لوتھر کے اس گہرے پیخام کو ایک خلاصہ اسطرح پیش کیا جا سکتا ہے: صرف انجیل مقدس، صرف ایمان کے ذریعے، صرف خدا کے فضل کے وسیلہ، اور صرف خداوند یسوع مسیح کے ذریعے۔

جر منی میں بائبل مقدس

لوتھر نے بائبل مقدس کو جرمن زبان میں ترجمہ کیا تاکہ ہر ایک جرمن شخص اسے آسانی سے پڑھ اور سمجھ سکے۔ لوتھر کے بائبل کے ترجمے سے پہلے، جرمنی میں بائبل کے دیگر تراجم بھی موجود تھے، مگر وہ زیادہ تر لاطینی زبان میں تھے، جس کی سمجھ بہت کم لوگوں کو تھی۔ لوتھر نے اس بات کو سوچا کہ لوگوں کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ خود خدا کے کلام کو پڑھیں اور جانیں کے خدا انسے کیا چاہتا ہے۔

لوتھر کے ذریعے کیے گئے بائبل کے ترجمے نے اس بات کو ممکن بنایا کہ ہر ایک جرمن شخص اپنی ذاتی زبان میں انجیل مقدس کو پڑھ سکتا تھا اور یسوع مسیح پر ایمان لانے کا اپنا ذاتی فیصلہ کرسکتا تھا۔ اسکے علاوہ، لوتھر کی بائبل نے جرمن زبان کے ارتقاء میں بھی کافی مدد فراہم کی۔ جس کے اثرات جرمن زبان پر آج بھی موجود ہیں۔

اصلاحات کے اثرات

ان اصلاحات نے نہ صرف ایمان کے نئے راستوں کو کھولا بلکہ جرمنی کے لیے ان راستوں کا آغاز کیا جن پر آج ہم چلتے ہیں۔ لوگ آج تعلیم حاصل کرکے اپنی زندگی کے بارے خود سوچ و بچار کر سکتے ہیں۔ یورپ میں 18 ویں صدی کی روشنائی کی بنیادوں کو بھی اصلاحات میں دیکھا جا سکتا ہے. اسکی وجہ سے زبان آزادی اور آزادیء معاشرا وجود میں آیا۔ اور ان اثرات کے ماتحت، دوسرے مذاھب نے بھی اپنے مذاھب میں تبدیلی لانے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا ہے مثال کے طور پر مقدس کتابوں اور مضامین کے دیگر زبانوں میں ترجمے، تاکہ لوگ انہیں پڑھ کر اپنی رائے سے آگاہ ہوسکیں۔

اصلاحات کے دوران جرمنی میں ایک نئے چرچ نے جنم لیا۔ یہ مارٹن لوتھر کی رائے یا منصوبہ نہیں تھا۔ لیکن نتیجتاً جرمنی میں دو مختلف گرجا گھر وجود میں آئے جن میں سے ایک کیتھولک اور دوسرا پروٹسٹنٹ چرچ ہے۔ پچھلے پانچ سو سالوں میں،اس بارےمیں بہت کچھ واقع ہوچکا ہے۔ اس وقت کے دوران پروٹسٹنٹ چرچ اس بات سے آگاہ ہو رہا تھا کہ اس میں مزید انقلاب آنے کو ہے اور نتیجتاً پروٹسٹنٹ چرچ کے اندر اور بہت سے „آزاد“ چرچوں اور آزاد مسیحی برادریوں اور ایمان کے عقیدوں نے جنم لیا۔ اسی وجہ سے آج جرمنی میں بہت قسم کے گرجا گھر پائے جاتے ہیں۔

جرمنی میں تقریباً آدھے مسیحی لوگ پروٹسٹنٹ مسیحی اور آدھے کیتھولک مسیحی ہیں۔ لوتھر کی اصلاحات نے جرمنی کے ساتھ ساتھ یورپ کے دیگر ممالک پر بھی بہت گہرا اثر ڈالا، جن خاص طور پر شمالی یورپین ممالک – سویڈن، ناروے، فن لینڈ، اور ڈین مارک شامل ہیں جہاں لوتھر کی اصلاحات کو بھی اپنایا گیا تھا۔

ہالووین

ایک بہت مختلف تہوار جسکو 31 اکتوبر کو بڑے جذبے سے منایا جاتا ہے اصلاحاتی دن کی ایک مضبوط خصوصیت بن گیا ہے: ہالووین۔ اس تہوار کی ابتدا امریکہ سے ہوئی مگر یہ مارٹن لوتھر کہ اصلاحاتی اور تبدیلی لانے والے دن کی مکمل مخالفت کرتاہے۔ جبکہ لوتھر کے نذدیق لوگوں کو ایک نئی زندگی دی گئی ہے،مگر ہالووین مکمل طور پر شیطانی روحوں کے بارے میں ہے. کدیوں کو جن بھوتوں کی شکلوں میں کاٹا جاتا ہے، بچے جن بھوتوں والے کپڑے پہنتے ہیں اور لوگوں کے گھروں سے کینڈیاں مانگتے ہیں۔ اس تہوار کو اب سکولوں اور کنڈرگارٹنز میں بھی منایا جاتا ہے۔ اگر اسکے بارے میں آپ کو مزید معلومات چاہیے تو نیچے موجود ویب سائٹ کو کولیھں اور جرمن زبان میں اسکے بارے پڑھ سکتے ہیں: www.derweg.org

ڈان لوڈ کریں

آپ اس مضمون کو اپنی زبان میں پی ڈی ایف فائل میں ڈان لوڈ کر سکتے ہیں:

اس ویب سائٹ کو آ گے شیر کریں

فیس بک پر تبادلہ کریںٹوٹر پر تبادلہ کریںPer Whatsapp teilen

Ihr Browser ist stark veraltet

Bitte aktualisieren Sie Ihren Browser!